نئی دہلی،5؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرانے پیرکو حکومت اورکسان تنظیموں کے مابین مذاکرات کے نئے دورسے پہلے الزام لگایا کہ سردیوں اور بارش کے درمیان حکومت سڑکوں پر بیٹھے کسانوں کے خلاف بے دردی سے برتاؤ کر رہی ہے۔
راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا ہے کہ جولوگ سردیوں کی بارش میں خیمے کی ٹپکتی چھت کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں ، سکڑ رہے ہیں ، وہ نڈر کسان اپنے ہیں ، غیرنہیں ہیں۔ حکومتی بربریت کے مناظرمیں مزیدکچھ دیکھنے کو نہیں ملتاہے۔پرینکاگاندھی نے ٹویٹ کیا اور الزام لگایا ہے کہ ایک طرف حکومت کسانوں کو مذاکرات کے لیے بلا رہی ہے ، دوسری طرف اس سخت سردی میں وہ آنسو گیس کے گولے پھینک رہی ہے۔ اس ظالمانہ سلوک کی وجہ سے اب تک لگ بھگ 60 کسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
انہوں نے پوچھا ہے کہ کسانوں کو اس ظالمانہ حکومت پر کیسے اعتماد کرناچاہیے؟ کسان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ تینوں زرعی قوانین کو واپس لیا جائے اور کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کو قانونی ضمانت دی جائے۔ دہلی کے قریب ہزاروں کسان اپنے مطالبات کے لیے پچھلے 40 دن سے احتجاج کر رہے ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قوانین زرعی شعبے میں بڑی اصلاحات کا ایک قدم ہیں اور ان کے ذریعے کاشتکاربچولیوں کے کردارکوختم کردے گی اور کسان اپنی پیداوارکو ملک میں کہیں بھی بیچ سکتے ہیں۔